4 مئی 2015 - 06:56
یرموک کیمپ سے متعلق آنروا کی تشویش

اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم آنروا نے، شام میں فلسطینی کیمپ یرموک کے پناہ گزینوں کی مدد و حمایت کی ضرورت پر زور دیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی مہاجرین تک امداد پہنچانے والے اقوام متحدہ کے ادارے، آنروا نے ایک بیان میں، شام میں فلسطینی کیمپ یرموک کے پناہ گزینوں کی جان کی حفاظت کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے- آنروا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یرموک کیمپ میں داعش دہشت گردوں کے داخل ہونے کے بعد، تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس کیمپ میں موجود عام شہریوں کی جانوں کو، شدید خطرہ لاحق ہے- شام کے بحران کے آغاز میں، بشار اسد حکومت کے مخالفین نے حملہ کرکے، اس کیمپ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا- اس کیمپ میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے جوانوں اور شامی فوج کی، بشار اسد کے مخالفین اور النصرۃ دہشت گرد گروہ سے شدید لڑائی ہوئی کہ جس کے نتیجے میں، دونوں فریق کے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے- واضح رہے کہ یرموک کیمپ، انیس سو پچاس کے عشرے میں دمشق کے مضافات میں قائم کیا گیا تھا اور گذشتہ چند برسوں تک، سیکڑوں فلسطینی پناہ گزیں، اس کیمپ میں بسے ہوئے تھے- اس وقت اس کیمپ میں صرف پندرہ ہزار افراد رہائش پذیر ہیں اور اس کیمپ کی صورتحال، دہشت گردوں کے قبضے کے سبب، اس حد تک بحرانی ہو چکی ہے کہ وہاں کے ساکن افراد تک، غذائی اشیاء اور پینے کا پانی، نہ پہنچنے، اور ان پناہ گزینوں کے اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنے کے باعث، انسانی المیے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی یرموک کیمپ میں دہشت گرد گروہ داعش اور جبھۃ النصرہ کی کاروائیوں کی مذمت کی ہے اور اس کیمپ میں انسان دوستانہ امداد پہنچائے جانے کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں یرموک میں ہونے والی لڑائی اور خاص طور پر داعش اور النصرۃ گروہوں کے دہشت گردانہ حملوں میں تقریبا دو ہزار فلسطینی شہید ہوئے ہیں-

.......

/169